Action
Zeeshan Hashim
Zeeshan Hashim کومنٹس

ہم عہد اول میں جس دیوتا کو پوجتے رہے وہ سالے ہمارے ہاتھوں کے تراشیدہ پتھر تھے ، جو ہمارے اندر روح نہیں پھونکتے تھے ، بلکہ ہم ان کے اندر عزت و حرمت کی روح پھونکتے تھے -
عظیم و الشان دیوتا نما زندہ ہستیاں جن کندھوں پہ اپنا تخت سجاتی تھیں وہ بھی ہم تھے ، اور جن کھوپڑیوں پہ عظمت و برتری کے مینار بنائے جاتے تھے وہ کھوپڑیاں ، وہ لاشے بھی ہمارے تھے -
اور آج کی سرکار ،حکومت یا حکمران جن بنیادوں پہ ہمارے مسیحا بنتے ہیں وہ بنیادیں ہماری عطا ہیں ، وہ عیاشیاں بھیک نما خیراتیں ہمارے محنتوں کے ٹیکس ہیں ....اور وہ خوشحالی کی امید جو ہم ان سے لگاتے ہیں وہ خوشحالی صرف ہماری محنت ، ہمارے عزم ، اور صرف ہمارے کردار کا عکس ہے

میں تاریخ کا ایک جید عالم نہیں ، ایک عام طالب علم ہوں ....پوری تاریخ کو جو میں نے سمجھا ہے ، وہ یہ کہ پوری تاریخ تمام انسانوں کی داستان ہے ...ہمیں تاریخ میں کسی تیسری طاقت نے کچھ نہیں دیا ، جو بھی پایا ہم انسانوں نے اپنی انفرادی زندگی اور سماجی تعاون سے پایا - انبیاء ، فلسفی ، سائنس دان ، دانشور ، صحافی ، مورخ وغیرہ یہ سب ہم ہی تھے ، یہ سب ہم میں سے ہے تھے ....گورنمنٹ کا آج تک کوئی خاص کارنامہ نہیں سوائے انتظامی اور دفاعی معاملات میں سماج کو اسکی ضرورت ہے اگر یہ یہی کام کرے تو اسکی صلاحیتیں ہمیں فائدہ دے سکتی ہیں ، ،،،، مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ تاریخ سازی صرف ہم انسانوں کے دم سے ہے ، خوشحالی ، امید ، تعاون ، ترقی ، اعلیٰ ظرفی ، قوم سازی ، اور تمام برکتیں ہمارے دم سے ہیں ، ان میں تمام انسانوں کا اپنی صلاحیتوں ، محنت ، اور رجحان کی بنیاد پہ کم یا زیادہ حصہ ہے ...... کوئی بھی غیر عوامی قوت ہمیشہ دھوکہ ہے سراب ہے ، اور باطل ہے

پورا مضمون پڑھیں ....
http://zeehashim.blogspot.com/2014/03/blog-post_12.html

بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔ کومنٹس پڑھیں پرنٹ کریں

1 کومنٹس

Talib Hussain


بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔