Action
Rehman Hafeez
Rehman Hafeez کومنٹس

بعض احباب یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ منڈی کی معیشت اپنے ساتھ اصطلاحات اور لفظیات بھی لاتی ہے مثلاََ کسی بھی خطّے کی منڈی پر قبضے کے لئے اس خطّے کے صارفین ہی کی زبان کا معاشی سطح پر اس طور استعمال کیا جاتا ہے کہ شَے میں "مقامیت کی بو باس کا التباس" در آتا ہے اور جدید سرمایہ داری یہی داوٰ صارف معاشروں میں کھیل رہی ہے ۔ ناخواندہ یا کم خواندہ معاشروں کے "دانش ور " اِس عمل کو ترقی پذیری سمجھتے ہیں لہذا وہ نہیں دیکھ سکتے کہ جدید سرمایہ داری کا معاشی دائرہ کن حدود و قیود کو توڑتا ہے اور کن کو قائم کرتا ہے۔ Market Rhetoric ہمارے " دانش ور " کے لئے نئی اصطلاح نہیں ہونی چاہیے اگرچہ یہ ابھی تک پاکستانی معاشرے میں سُنی نہیں گئی ، سمجھنا تو بعد کا عمل ہے۔ ۔ اگر کوئی اِسے پرانے طور پر عام کاروباری زبان خیال کرے تو عجب نہیں لیکن درحقیقت یہ نئے صارف کے اعتقادات ، زبان ، تصّور ِ ریاست ، نفسیات ، معاشی حالت حتٰی کہ اُس کی مکمّل تہذیبی شخصیت کو سامنے رکھ کر ترتیب دی جاتی ہے ۔ یہاں تک کہ اس میں عالمگیریت اور آفاقیت کا تڑکا لگانے کے لئے مختلف زبانوں کے لفظ تک صارف کی پوری اہلیت کو مدِّ نظر رکھ کر یوں رکھّے جاتے ہیں کہ صارف چیچو کی ملیاں میں بیٹھ کر خود کو "عالمی شہری " سمجھنے لگتا ہے ۔ برقی ذرائع اطلاعات کی ترقی کا سب سے زیادہ فائدہ جدید سرمایہ دار کو ہوا ہے اور پسماندہ ممالک میں ، جنہیں اکثر دانش ور ترقی پذیر کہنے پر مصر ہیں ، برقی ذرائع اطلاعات کا غلبہ دراصل سرمایہ دارانہ استعمار ہی کا ایک کھیل ہے ، چاہے اس کے ذریعے کبھی کبھار ،منصوبے کے تحت ، درست خبر بھی کسی طورمعلوم ہو جاتی ہو۔ پھر بھی پس ماندہ ممالک کا دانش ور خبروں ، مکالموں اور اشتہاروں کے درمیان ربط اور سوچی سمجھی ترتیب پر بات کرتا نظر نہیں آتا ۔ صارف ۔۔۔ شے کے معیار اور مقدار سے الگ کر دیا گیا ہے اور اُسے Market Rhetoric کا ایسا عادی بنا دیا گیا ہے کہ وہ دکاندار سے وہی شے طلب کرتا ہے جس کا اشتہار سکرین پر ملاحظہ کر چُکا ہو ۔ سو ہمارے دور میں سکرین پر ،خواہ ٹی وی کی ہو یا کسی اور شکل میں ، ملک کے ملک بِک رہے ہیں۔
( اختر عثمان)

بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔ کومنٹس پڑھیں پرنٹ کریں

2 کومنٹس

Arshad Mehmood

Haseeb Khan


بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔