Action
Zeeshan Hashim
Zeeshan Hashim کومنٹس

کچھ دن پہلے میں پاکستان میں تھا ....
ایک مہربان دانشور بزرگ نے دوران گفتگو مجھ سے پوچھا کہ آپ کی pluralism سے متعلق کیا رائے ہے ؟...میرے جواب پہ وہ نہ صرف چونکے بلکہ دادو تحسین دیتے ہوئے اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے ، میرا جواب یہ تھا کہ فطرت بذات خود pluralist ہے -......وہ اس وقت اور زیادہ حیران ہوئے جب میں نے کہا کہ کیپیٹلزم کے فلسفہ کے مطالعہ کے دوران یہ ابتدائی سبق تھے جو فری مارکیٹ فلاسفی نے مجھے سکھائے .............آپ جناب ایک مارکسی دانشور ہیں ، ستر سالہ ....اور انتہائی متاثر کن شخصیت و علمی فکر کے حامل .....انہوں نے کیپیٹلزم کے فلسفہ کے بارے میں مزید جاننا چاہا ، میں بتاتا گیا اور وہ حیران ہوتے گئے ..... انہوں نے کیپیٹلزم کو پڑھنے کے لئے کچھ بنیادی کتابوں کے بارے میں پوچھا تو یہ بتاتے ہوئے میں خود اداس تھا کہ کیپیٹلزم پہ کوئی بھی اردو یہاں تک انگلش میں کتاب پاکستان میں میسر نہیں .....ہاں رد کیپیٹلزم پہ لائبریریاں بھری پڑی ہیں -

میں سمجھتا ہوں ؛ انسانی فکری و علمی ارتقاء کی دو بڑی رکاوٹیں ہیں ..١. لاعلمی ...٢. نفرت-

ہم دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھے سنے اور جانے بغیر رد کر دیتے ہیں ، یا تو صحیح نیت کی بنیاد پہ یا محض ضدا ضدی کی نفسیات .....یہ رویہ زہر قاتل ہے ہماری ترقی اور نفسیات کے لئے -

٢ . یہ نقطہ بہت اہم ہے ، جس کے لئے یہ سٹیٹس لکھا .....جب ہم مانتے ہیں کہ فطرت pluralist ہے ،،،،،، یا بقول مارکسی فکر کے کہ ہر چیز کی ضد پائی جاتی ہے ، اور یہ ضد ہی سچائی کے ارتقاء کی اصل وجہ ہے ، اور اس ضد میں بھی ارتقاء ہوتا ہے __________ پھر ہم آخر کیوں نہیں دوسروں کو، انکی سوچ و فکر کو accept کرتے ؟......ہمارے پاس ایسا کوئی بھی پیمانہ نہیں جو ہماری سوچ کو validate کر سکے سوائے آنے والی تاریخ اور ہمارے و سوسائٹی کے علمی فکری ارتقاء کے ._______ہم میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ دوسرا نہ رہے ، دوسرے کی فکر نہ رہے ..یھاں تک کے بعض عدم تشدد کے پرچار بھی دوسروں کے لئے تشدد کو جائز قرار دینے میں دیر نہیں کرتے .......

پاکستان میں اہل علم و فکر کے ساتھ یہی مسئلہ جو نفسیاتی بھی ہے اور معاشرتی بھی ، پاکستان میں سوشل ارتقاء میں بہت بڑی رکاوٹ ہے -.....مثال کے طور پہ امریکا میں conservatives اور لبرلز کے درمیان جو نظریاتی جنگ ہوتی ہے اسکی شدت کا اندازہ پاکستانی دانشور کبھی بھی نہ کر سکے ...(یاد رہے کہ مغربی conservative ، ماضی میں زندہ رہنے والے کو نہیں کہتے ، بلکہ ایسا شخص جو موجودہ ارتقاء کے پیٹرن کا حامی ہو اور موجودہ pattern میں کسی مٹیریل مداخلت کو پسند نہ کرتا ہوں ........،،،،جبکہ لبرلز موجود پیٹرن میں اصلاحات کے حامی ہوتے ہیں ) ، مگر امریکی ذہن کچھ بنیادوں پہ اتفاق کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں جیسے جمہوریت ، عدم تشدد ، ڈائلاگ ، اعتراف و ادراک ، باہمی محبت ، فلاح انسانی کا مخلص و سنجیدہ جذبہ وغیرہ -

دو دن پہلے میں نے پال krugman (ایک مشہور لبرل ) کی ایک تحریر پڑھی جو اس نے ملٹن فرییڈمن (امام conservatives ) کی مدح میں لکھی ....میری آنکھیں بھیگ گئی ، ،،،،،،،،،،کاش ہم مغرب سے اسکی اقدار ہی سیکھ لیتے-...

ذیشان

بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔ کومنٹس پڑھیں پرنٹ کریں

2 کومنٹس

Hameed Niazi

Hameed Niazi


بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔