Action
Zeeshan Hashim
Zeeshan Hashim کومنٹس

ہم بہت سارے مغالطوں میں مبتلا ہیں ....ان بہت سارے مغالطوں میں ایک بات مشترک ہیں ، حسن نیت مگر اصل میکانزم سے لاعلمی -

آج کل کا مشہور و معروف مغالطہ مغربی تحقیق ، دریافت و ایجادات اور سوشل سائنسز کے ٹرائی، error اینڈ فائینڈ دی truth سے متعلق ہے -

اکثر کو خلائی سائنس اور اس پہ آنے والے اخراجات پہ اعتراض ہے ، وہ لوگ کہتے ہیں کہ آخر یہ پیسہ عام لوگوں کی فلاح و بہبود پہ خرچ کیوں نہیں ہوتا ؟ آخر مریخ و چاند کی جستجو اور اس پہ بسنے کی انسانی آرزو کی کیا منطق ہے ؟

آپ مانیں یا نہ مانیں ، مگر میرا یہ یقین ہے کہ اگر صنعتی انقلاب نہ برپا ہوتا تو آج ہم جہاں زرعی جاگیردارانہ سماج کے ظلم و ستم اور جبر کا شکار ہو رہے ہوتے ، وہیں نامہرباں فطرت ہماری زندگی میں جہاں چوائسز کو کم کر رہی ہوتی وہیں ہماری زندگی دکھوں تکلیفوں اور غیر متوقع مصائب میں مبتلا ہوتی جسکا ثبوت زرعی جاگیردارانہ سماج کے مذاہب اور انکا ادب و فلسفہ ہے -........جب صنعتی انقلاب برپا ہوا اور مشینوں نے پروڈکشن کے عمل میں انسان کا ہاتھ بٹانا شروع کیا، ایک سوال نے معاشرہ میں ہیجان و افراتفری پیدا کی کہ آخر ان مشینوں کی کیا ضرورت ہے ؟ ان مشینوں کے آنے سے انسان بھوک مریں گے ...سرمایہ دار انسانوں کی جگہ مشینوں سے کام لیں گے اور انکی مزدوروں سے متعلق بے تعلقی بھوک و افلاس پیدا کر دے گی ، اس کے نتیجے میں مزدوروں اور کسانوں نے مل کر انگلینڈ میں مظاہرہ کئے ، فیکٹریوں کو آگ لگا دی ، اور جلاؤ گھیراؤ کیا گیا .......انسانیت کی خوش نصیبی کہ وہ کامیاب نہیں ہوئے اور نہ انکی پیش گوئی پوری ہوئی ...............اہم بات یہ ہے کہ اس سوچ میں حسن نیت غالب تھی ، مگر میکانزم سے لاعلمی نے مغالطے پیدا کئے جن کا تسلسل بعض شکلوں میں آج بھی جاری ہے -

اسی طرح سائنسی تحقیق و اسلوب سے متعلق حسن نیت مگر غلط فہمیاں مغالطہ پیدا کر رہی ہیں ، جو محض ہمارے سماج کو نہ صرف سائنسی فکر سے دور کر رہی ہیں بلکہ تہذیبی طور پہ ہمیں مزید اندھیروں میں دھکیل رہی ہیں -

سائنس کا اسلوب ہے کہ وہ ہر اس چیز کا مطالعہ کرتی ہے اور جستجو رکھتی ہے جو اسے حیران کرے اور جسکی منطق اس کی فہم میں نہ آ رہی ہو ، اس تحقیق و جستجو کے عمل میں کائناتی قوانین پہ نظریاتی گرفت پیدا کی جاتی ہے ، اور پھر اس نظریاتی گرفت کا مارکیٹ کی قوتوں کے ساتھ الحاق سے نتیجہ خیر اطلاقی سائنس وجود میں آتی ہے اور یوں ہم ایجادات کی دنیا میں مزید چوائسز سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور سماج اپنے علم اور leisure میں آگے بڑھتا ہے - .....اسکی سب سے بڑی مثال سیٹلائیٹ کی ٹیکنالوجی ہے ، اسے انسانوں کی خلا سے متعلق جستجو نے نظریاتی زندگی دی اور مارکیٹ کی قوتوں نے اسے ٹیکنالوجی کی شکل دی اور یوں ہم آج نہ صرف موسموں کی پیش گوئی میں کامیاب بیٹھے ہیں وہیں مواصلات ، کمیونیکشن ، اور ان گنت فیلڈز میں اسکے فائدہ حاصل کر رہے ہیں -

ذیشان

بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔ کومنٹس پڑھیں پرنٹ کریں

0 کومنٹس


بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔