Action
Shaharyar Qureshi
Shaharyar Qureshi کومنٹس

طالبان سے فکری اور نظریاتی مقابلے کا طریقہ اور ریاست کی ذمہ داری

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ عسکری آپریشن سے طالبان ختم ہو جائیں گے۔ جیٹ طیاروں کی بمباری اس نظریے کو تباہ کر سکتی ہے جو طالبان کے ذہن میں پرورش پارہا ہے

مگر یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے طالبان کو ختم کر بھی لیا جائے لیکن اس سوچ کو خــتم کرنا (حالاتِ حاضرہ) میں ممکن نہیں کیونکہ طالبان کے جملہ رویے ایک بنیاد اور اساس پر قائم ہیں ۔۔ ۔۔

طالبان نفسیات، ان کے اساسی عقائد، بنیادی نظریات، فکری قوت، دینی پسِ منظر کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہی کوئی بھی قدم اٹھانا ایک دانشــــمدانہ فیصلہ ہوگا ۔۔ طالبان کے نظریئے کو ختم کرنے کے لئے ایک متبادل فکر اور نظریہ کی ضرورت ہے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ طالبان کی مقبولیت غریب اور مفلوک الحال طبقے میں زیادہ ہے جو ملک میں طبقاتی نظام کے خاتمے اور فوری انصاف کا نظام چاہتا ہے۔

ہماری قومی سوچ اپنی جگہ! لیکن طالبان اس وقت شریعت کے نفاذ کے لئے حکومت سے لڑ رہے ہیں چہ جائیگہ شریعت کو کونسا ماڈل اس ریاست میں لاگو ہوگا۔ نفاذ شریعت کے اس فلسفہ کیلئے وہ اپنی جانوں کے نذرانے دینے کیلئے تیار ہیں۔ اور جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ ان کے نزدیک شہادت ایک عظـــیم مرتبہ ہے جو کسی خوش نصیب کے حصہ میں آتا ہے ۔۔مگر طالبان کے حامی ان سے اس لئے زیادہ وابستہ ہے کہ وہ ملک میں قائم نظام کو بدلنا چاہتے ہیں مگر ان کے سامنے اس نظام کی تبدیلی کا کوئی موثر خاکہ موجود نہیں اس لئے اس نظام سے نالاں مفلوک الحال طبقہ طالبان کو ہی متبادل فورس کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اور نوجوانوں کے لئے یہ ایک ائیڈیل ہے کہ وہ انصاف، مساوات اور ظلم کے خاتمے کے لئے ریاستی قوت سے ٹکرا جائیں۔ اگر طالبان کی فکر کو بے اثر کرنا ہے توصرف روشن خیالی پر مبنی مذہبی تعبیر کافی نہیں بلکہ ریاست میں ایسے عدالتی نظام کی ضرورت ہے جو عام لوگوں کو جلد انصاف فراہم کر سکے۔ اور عام لوگوں کو زیادہ سے زیادہ معاشی اور سیاسی اختیار میں شریک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ایک ایسی سیاسی قوت کی ضرورت ہے جس میں نچلے مڈل کلاس کی سیاسی قیادت شامل ہو اور جو معاشرے میں سیاسی اور معاشی اصلاحات کا ایجنڈا رکھتا ہو اس کے بغیر صرف فوجی آپریشن سے طالبان کو جسمانی طور تو ختم کیا جا سکتا ہے مگر جلد انصاف، مساوات اور سماجی برابری پر مشتمل سماج کی ضرورت ختم نہیں کی جا سکتی

بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔ کومنٹس پڑھیں پرنٹ کریں

2 کومنٹس

Arshad Mehmood

Arshad Mehmood


بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔