Action
Zeeshan Hashim
Zeeshan Hashim کومنٹس

دعوی :پاکستان میں فری مارکیٹ اکانومی نہیں بلکہ جاگیرداری اور مرچنٹ ازم (سیٹھ ازم )پایا جاتا ہے -

مرچنٹ ازم یا سیٹھ ازم کیا ہے ؟
ایسا نظام جس پہ تین طبقوں کا تسلط ہو
١. حکمران
٢. سول سرونٹس
3. فنانشل اور بزنس مافیا

اس میں تین چیزیں پائی جاتی ہیں -
١.مقابلہ کی فضا پیدا ہی نہیں ہونے دی جاتی ، مارکیٹ آزاد نہیں بلکہ ان تین طبقوں کے تسلط میں ہوتی ہے -
٢. ریاست اور کاروبار میں اشتراک ....جیسے نواز شریف اینڈ کمپنی ، میاں منشاء ، تمام سیاسی پارٹیوں میں تمام بڑے جاگیردار سیٹھ
3. دولت سونا چاندی روپیہ پیسہ اکٹھا کرنا اس معیشت کا جنون ہوتا ہے ...............فری مارکیٹ اکانومی کا تصور برائے maximum پروڈکشن اور زیادہ سے زیادہ contribution اس سماج میں نہیں پایا جاتا -
یہ نظام جاگیرداری کی کوکھ سے پیدا ہوا -اس نظام کو سترہ سو چھہتر میں آدم سمتھ کی فکر نے توڑا تھا ، اور اس کے فورا بعد کیپیٹلزم وجود میں آیا - ایسٹ انڈیا کمپنی ایک مرچنٹ کمپنی تھی -

جاگیرداری کا تو ہم سب کو پتا ہے

فری مارکیٹ اکانومی
ایک مارکیٹ اس وقت فری مارکیٹ معیشت ہو گی جب اس میں درج ذیل بنیادی اجزاء پائے جاتے ہوں گے -
١. پرسنل پراپرٹی کا مکمل تحفظ
٢ فری opportunity سب کے لئے ، کوئی مستقل امیر نہیں کوئی مستقل غریب نہیں ......ٹیلنٹ ، ہارڈ work اور contribution کو ریوارڈ دیا جائے -....معیشت کی بنیادیں محنت کی قدر پہ ہوں -
3. گوورنمنٹ کی مارکیٹ میں کم سے کم مداخلت ، .....گوورنمنٹ وہی کرے جن بنیادوں پہ یہ ادارہ تشکیل پایا تھا جیسے لاء اینڈ آرڈر ، لوگوں کی تعلیم و صحت ، ڈیفنس ، قدرتی وسائل کا تحفظ ، اور اور پبلک سہولیات جیسے پارک ، اور انفراسٹرکچر وغیرہ مہیا کرنا -.....
٤. آزاد مقابلہ کی فضا ،،،،،،،،،، گوورنمنٹ محض بنیادی چیزوں کو regulate کرے جیسے کوالٹی وغیرہ

اب آپ خود ہی طے کرو کہ کیا کچھ ہو رہا ہے اور کیا فری مارکیٹ کے اجزاء یہاں مکمل طور پہ پائے جاتے ہیں ، اور کیا یہ ایک جاگیردار سیٹھ معیشت نہیں ؟
جاگیردار سیٹھ ازم اور کیپیٹلزم ایک دوسرے کے لئے ایسے ہیں جیسے اسلام اور الحاد -

ذیشان

بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔ کومنٹس پڑھیں پرنٹ کریں

7 کومنٹس

Shaharyar Qureshi

Shaharyar Qureshi

Arshad Mehmood

Hameed Niazi

Arshad Mehmood

Shaharyar Qureshi

Hameed Niazi


بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔