Action
Syed Fawad Bokhari
Syed Fawad Bokhari کومنٹس

محترم جناب سید اسرار احمد صاحب Syed Asrar Ahmed کی ایک پوسٹ کا کنکلوژن۔

پوسٹ مقلدانہ و مجتہدانہ زہن کی مد میں تھی۔

اِس پوسٹ پہ جناب عبد السلام خلیفہ صاحب AbdusSalam Khalifa ، سید فواد بخاری Syed Fawad Bokhari ، جناب مغل الٰی صاحب Mughal Elahi، جناب سید اسرار صاحب، اور جناب طالب حسین صاحب Talib Hussain نے اپنا حصہ ڈالا۔

پوسٹ کا کنکلوژن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو زہنی ارتقا ایک آزاد شعوری سوچ سے آتا ھے وہ شایئد ایک غیر آزاد زہن سے نہیں آ سکتا۔ قرآن نے تو خود کفار کا اپنے ابا و اجداد کی بے جا تقلید کرنے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اور چونکہ

اجتہاد کی کاوش بنیادی طور پر انسانی فہم ہی انجام دیتا ہے۔ اجتہاد بل رائے ھوتا ھے اور مجتہد اپنی علمی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اجتہاد کرتا ھے، اجتہاد قرآن وسنت کی منشا، پیش آمدہ مخصوص صورت حال یا مسئلے کی نوعیت کو سمجھنے اور ان دونوں کے باہمی تعلق کو متعین کر کے ایک مخصوص قانونی حکم لاگو کرنے کی علمی وفکری کاوش ہے۔

لہذا، ایک مجتہدانہ ذہن کو ایک ذہنی رجحان کے لئے انتہا درجے کی ذہانت، علم اور ہمہ گیری اور ان سے بڑھ کر اخلاقی حس کا ہونا بھی ضروری ہے، کیونکہ غیر زمہ دارنہ اور اخلاقی روح سے عاری، اجتہاد نقصان دہ ھے اور معاشرتی بگاڑ کی وجہ بنتا ھے۔

لہذا، زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح دین میں اجتہاد بھی علماء اور ماھرین ھی کا کام ھے، غلط اجتہاد نقصان کا باعث ھے، مگر اگر اس "خظرے" کی وجہ سے اجتہاد کا رستہ روکنا بھی مناسب نہیں ھو گا۔ لہذا کوشش کا رستہ کھلا رھے تو کامیابی مل ہی جاتی ھے۔

مگر پھر،

تقلید کی اسقدر ضد نہیں ھونی چاہیے کہ جو اسوہ حسنہ سے دور لے جائے۔ مگر پھر اسوہ حسنہ کی تشریحات اور روایات میں ایک تحقیق اور وریفیکیشن ھونی چاہیئے۔

لہذا، اہم ترین بات یہ ھے کہ

مذہبی اجتہاد کا بنیادی مقصد فقہ کو قرآن وسنت کے معیار کے مطابق استوار کرنا ہے۔ اجتہاد ، ایسے میں، بدلتے ہوئے حالات اور ارتقا پذیر انسانی سماج کا رشتہ قرآن وسنت کی ہدایت کے ساتھ قائم رکھنے کی جہد کرنے کا نام ھے۔

اس پوسٹ کے نکات کا خلاصہ نیچے کومینٹس میں دیکھیئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس پوسٹ کا کنکلوژن پیش کیا گیا ھے، وہ اس لنک یہ دیکھیئے۔

https://www.facebook.com/groups/muslimsceptics/permalink/490930864355005/

بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔ کومنٹس پڑھیں پرنٹ کریں

1 کومنٹس



بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔