Action
Syed Fawad Bokhari
Syed Fawad Bokhari کومنٹس

سید فواد بخاری Syed Fawad Bokhari کی ایک پوسٹ، لنک نیچے دیکھیئے، کا ایک کنکلوژن

پوسٹ , جناب افراساب کامل صاحب Afrasiab Kamil کے ، تنگ نظری ، کی مد میں پوچھے گئے سوال پہ تھی۔

اس پوسٹ پہ جناب افراسیاب کامل صاحب، جناب ابرار جان صاحب Abrar Jan جناب حمید نیازی Hameed Niazi صاحب، سید فواد بخاری، سید آصف جلال Syed Asif Jalal صاحب، جناب سید ضیاالدین نعیم صاحب Syed Ziauddin Naeem، جناب عبدالرشید صاحب Abdul Rasheed ، جناب آصف علی آصٖف Asif Ali Asif، اور جناب ارشد محمود صاحب Arshad Mehmood نے اپنا حصہ ڈالا۔

پوسٹ کا کنکلوژن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔ تنگ نظری یا تو محبت و بقا کی مد میں پیدا ھونے والی ایک مجبوری کے ایسے غصے کی بھڑاس کا نتیجہ ھے کہ جو پہلے تعصب کا رنگ لیتی ھے اور بعد میں تنگ نظری کا۔ اور یا تنگ نظری محبت چایے جانے، سیکوریٹی اورخود پسندی کے جزبوں کے تحت ایک دوام کی خواہش کا نتیجہ ھے۔

۲۔ لہذا تنگ نظری اپنی زات میں یا اپنے جوہر میں مثبت ھے، مگر اس کا اثر منفی ھے۔ تنگ نظری ایک سینڈروم کیطرح ھے، کہ جو تعصب، مجبوری، خود پسندی، اور دیگر کا ایک اجتماعی نتیجہ ھے کہ جو تنگ نظر کو مجبور کرتا ھے کہ وہ دوسرے کو غلط سمجھنے سے لیکر حقیر اور جاہل سمجھے اور پھر اسکے خلاف پراپیگینڈا کرنے تک آ جائے اور انتہا یہ ھے کہ ھم خیالوں سے مل کر دوسرے کو نفسیاتی نقصان پہنچانے سے لیکر مالی، عزت کے حساب سے اور جانی نقصان پہنچائے۔

۳۔ یہ تنگ نظری جس میں بھی ھو گی وہ ، مختلف درجات کے مطابق، ایسا کرنا شروع کرے گا۔ چاہے وہ دایئں بازو کے مزہبی حضرات ھوں یا بایئں بازو کے دوسری انتہا کے لوگ۔ چاہے وہ دہریئے ھوں یا خدا کو ماننے والے ھوں۔ چاہے ھو سایئندان ھوں یا نہ ھوں۔ ہر کوئی اپنے حالات و بساط کے مطابق مختلف درجات تک جاتا ھے۔

۴۔ اور ایسے میں تنگ نظری مندرجہ زیل صورتحال میں پھلتی بھولتی ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۴۔۱۔ غیر متوازن معاشرہ اور غیر یقین مستقبل
۴۔۲۔ موروثیت
۴۔۳۔ مقتدرِاعلیٰ کی نا پائیداریی
۴۔۴۔ فرد کی انفردی تگ و دو
۴۔۵۔ فنونِ لطیفہ کی ناقدری
۴۔۶۔ خوف اور لالچ
۴۔۷۔ تاریخ
۴۔۸۔ میڈیا گلیمر
۴۔۹۔ سول اور ملٹری بیوروکریسی کا رویہ
۴۔۱۰۔ عوام کا حد سے زیادہ حکومتی معاملات میں دخل اور جاہلوں کا خود کو عالم سمجھنا
۴۔۱۱۔ ابن الوقت سیاست دان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۵۔ تنگ نظری معاشرے میں موجود تضادات کے نتیجے میں پھلتی پھولتی ھے ۔ ان تضادات میں کچھ موروثی ہیں اور کچھ اختیاری۔ اختیاری پر تو عبور ہو سکتا ہے مگر موروثی انتقام بن کے اندر اندر ہی پلتا رہتا ہے۔ لہذا رد کی بنیاد پر ہی معاشرہ آگے جا سکتا ہے۔ اور ایسے میں فرد کا تعلق خاندان کے بجائے نظام سے ہونا چاہیئے اور سب نطام کی بقا کے لیئے ہونے چاہیئے۔

۶۔ مذہبی تنگ نظری کے علاوہ یہ عمومی رویہ کے طور پر بھی نہایت سنگین ہےـ تنگ نظری کی ابتدا مقابلے اور تقابل کے رجحان سے ہوتی ہےـ جو کہ شعبہ ہائے زندگی میں نظر بھی آتا ھے۔

۷۔ آجکل کے معاشرے میں مذہبی معاملہ، سیاسی معاملہ ہو، شائنسی یا سماجی شخصیت پرستی اور شخصیت نفرتی دونوں نظر آتی ہیں ۔ دونوں بالعکس ہے۔ دونوں جب اعتدال سے ہٹتے ہیں مسلہ بن جاتا ھے، اعتدال پسند ملا ہو یا سیکولر فرد ۔۔۔ قابلِ قبول ہیں۔ انتہا پسند سیکولر اور انتہا پسند مذبہی حضرات کے روئے میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ مذہب اور انسانوں سے ایٹریایکشن، تربیت اور کلچر کا حصہ ھوتا ھے، اور چونک کلچر میں ایک انتہا پسندی آ ماجود ھوئی ھے تو، ایسے میں، اگر کوئیسیکولربھی ھے، تو انتہا پسند ھو چکاھے۔

۸۔ ماں، باپ اور ابا و اجداد کی محبت اور اس محبت کے دفاع میں پیدا ھونے والی شدت کی بنیاد کو سمجھنے کی ضرورت ھے۔ والدین کی محبت اور ان سے محبت '' والدین کے درست یا غلط نظریات کے حوالے سے بھی انسان کو متعصب بنا دیتی ہے ۔ قرآن میں متعدد جگہ انسان کے اس تنگ نظری پر مبنی رویے کا ذکر کیا ہے ۔ اللہ سے اس رویے کو سراہا نہیں بلکہ غلط رویہ قرار دیا، مطلب یہ کہ اللہ کے فرمان کے مطابق '' غیر مشروط اطاعت نہ عمل میں نہ نظریات میں ، والدین کی بھی نہیں ہونی چاہیٔے ۔ اگر انسان کی سمجھ میں یہ آجا ۓ تو '' تنگ نظری '' کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے ۔ جو انسان اتنا کشادہ دل اور معقولیت پسند ہو جا ۓ کہ اپنی محبوب ترین ہستیوں کے نظریات و عمل پر بھی ناقدانہ نگاہ ڈال سکے اُس سے دیگر تعصبات میں مبتلا نہ ہونے کی قوی امید رکھنا یقینآ جایٔز ہوگا۔

۹۔ تنگ نظری سے نجات تعصبات سے جان چھڑائے بغیر ممکن نہیں۔ تمام تعصبات سے یکسر چھٹکارا تو ایک ناممکن الحصول آدرش ہے۔ ہم اگر ایک دوسرے کے تعصبات سے کسی قدر آگاہ ہی ہو پائیں تو زندگی جینے اور دنیا رہنے کے لائق ہو جائے۔ تعصبات درحقیقت محبت کا اظہار ہیں ، ہم اپنے خاندان، احباب، علاقے ، وطن اور مذہب سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے حق میں متعصب ہوتے ہیں۔ پر امن بقائے باہمی ہی واحد راستہ ہے پنپنے کاـ

۱۰۔ بس ہم اگر اتنا ہی جان پائیں کہ ہماری نظر کتنے رنگین چشموں کی آڑ سے منظر کو دیکھتی ہے تو صرف اپنی بصارت کو درست اور باقی سب کو کور چشم سمجھنا چھوڑ دیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس پوسٹ کے نکات کا خلاصہ نیچے کومینٹس میں دیکھیئے۔
..........................

جس پوسٹ کا کنکلوژن پیش کیا گیا ھے، وہ اس لنک پہ دیکھیئے۔

https://www.facebook.com/groups/muslimsceptics/permalink/495684757212949/

بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔ کومنٹس پڑھیں پرنٹ کریں

25 کومنٹس

Syed Fawad Bokhari

Syed Fawad Bokhari

Syed Fawad Bokhari

Syed Ziauddin Naeem

Syed Asif Jalal

Syed Fawad Bokhari

Syed Fawad Bokhari

Ahmed Khalil Jazim

Abdul Rasheed

Syed Fawad Bokhari

Syed Fawad Bokhari

Ahmed Khalil Jazim

Syed Fawad Bokhari

Talib Hussain

Talib Hussain

Syed Fawad Bokhari

Talib Hussain

Talib Hussain

Syed Fawad Bokhari

Talib Hussain

Syed Fawad Bokhari

Syed Fawad Bokhari

Talib Hussain

Syed Fawad Bokhari

Talib Hussain


بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔