Action
Adnan Kasir
Adnan Kasir کومنٹس

صحرائے تمنا میں‌ یقیں اور گماں اور
قدموں کے نشاں‌ اور ہیں‌ سجدوں‌ کے نشاں اور

ہم اس پہ بناتے رہے اک نام کی لہریں‌
اوروں کے لیے لکھتی رہی‌ ریگ ِ رواں‌ اور

ویسے تو ہر اک شخص کا ہے اپنا ہی جادو
اُن جاگتی آنکھوں‌ نے جگائے ہیں‌ جہاں اور

ہم کب سے لیے پھرتے ہیں‌ اک شہر کا نقشہ
اور حسرت ِ تعمیر بناتی ہے مکاں‌ اور

رازوں‌ کا یہ جنگل تو کسی پر نہیں‌ کُھلتا
پیڑوں کی زباں‌ اور پرندوں‌ کی زباں‌ اور

سلگتے ہوئے ہر سال کی کچھ آخری شامیں
جب آگ جلاتی ہیں‌ تو اُٹھتا ہے دھواں‌ اور

غلام محمد قاصر

بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔ کومنٹس پڑھیں پرنٹ کریں

1 کومنٹس

Arshad Mehmood


بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔