Action
Zaighum Mashriqi
Zaighum Mashriqi کومنٹس

علامہ المشرقی کے مجموعہ کلام حریم ِ غیب سے انتخاب
====================================
۸۔ زِشتیِٔ کردار
====================================
اب تو ثابت ہے کہ غدّار یہی اپنے تھے
بننے دیتے تھے نہ کچھ کار، یہی اپنے تھے
چڑھ گئے بامِ فلک پر اسی مدّت میں ہنود
جو تمہیں کر گئے یوں خوار، یہی اپنے تھے
حق بجانب تھے فرنگی کریں کم زور ہمیں
آلۂِ کار پہ ہر بار، یہی اپنے تھے
دیں مٹا جاتا تھا کیوں قوم میں اس سُرعت سے
اسکے پس پردہ کَرنہار، یہی اپنے تھے
آج حاکم ہیں تو کیوں دیں کو دباتے ہیں بہ زور
قوم میں کفر کے سردار، یہی اپنے تھے
آج کیوں گولی چلے قوم کی ہر نیکی پر(۱)
اُمّتِ ماندہ کے خونخوار، یہی اپنے تھے
اب جو حاکم ہیں تو کرتے نہیں کیوں قوم کو ایک
فرقہ بندی کے گنہ گار، یہی اپنے تھے
کیا رکاوٹ ہے کہ اب قوم سپاہی نہ بنے
’’خاکساریکے غلط کار، یہی اپنے تھے
بول بالا نہ ہو اللہ کا اب کیوں ہر سُو
دینِ اللہ سے بیزار، یہی اپنے تھے
آج جاری ہے گُنہ کیوں کُھلے بَندوں ہر سُو
عیش و عشرت کے پرستار، یہی اپنے تھے
دس (۱۰) گنا ظلم ہو پہلے سے خدا والوں پر
مشرقیؔ کے بھی ستم گار، یہی اپنے تھے
اے کہ در جستجوئے مہدئییؑ در عہدِ فرنگ
آؤں (۱۰) گو نہ کنوں پُرس(یعنی تلاش کن۱۲) کہ دنیا ست بہ تنگ

(۲۴فروری۱۹۵۱ء)
( علامہ المشرقی - مجموعہِ کلام حریمِ غیب صفحہ نمبر 19)

بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔ کومنٹس پڑھیں پرنٹ کریں

0 کومنٹس


بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔