Action
Abdul Rasheed
Abdul Rasheed کومنٹس

پچھلے دنوں جو مکالمے ھوۓ ان میں بطور قوم ھمارے رویے زیر بحث آۓ ۔ ھمارا روزمرہ کا مشاہدہ ھے جیسے جیسے ھمارے علمی ذرایٔع بڑھ رھے ھیں ( پرنٹ میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا، انٹر نیٹ سکول کالجز مدارس وغیرہ)) ھو نا تو یہ چاھیے تھا کہ ھم میں برداشت بڑھتی۔ ھم بات کرتے ھوۓ دوسرے کے جزبات و احساسات کا خیال رکھتے لیکن ایسا نہیں ھوتا چلیں طنز کی حد تک رعایت دی جا سکتی ھے مگر کیا تضحیک بھی روا ھے ؟ میرا سوال یہ ھے کہ کیا ھم ایک غیر متوازن قوم کے فرد ھیں ؟ ۲۔ اور اگر سوال کا جوب ہاں ھے تو کیا اس بند گلی سے نکلنے کا کوییٔ راستہ ھے ؟
احباب سے رھنماییٔ کی درخواست کے ساتھ

بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔ کومنٹس پڑھیں پرنٹ کریں

1 کومنٹس

Syed Fawad Bokhari


بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔