Action
Shaharyar Qureshi
Shaharyar Qureshi کومنٹس

تحریر سہیل احمد
"ساختیات " (structuralism)
ساختیات کو سادے الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ھے کہ یہ مظاہر کا تجزیاتی مناجیات/ طریق عمل کاعلم یا سائنس ھے اس کا بنیادی مکالمہ "انسانی مظاہر" سے ھی ھوتا ھے۔ ساختیات کے مظہر میں ثنوئی اختلافات کا نظام موجود ھوتا ھے۔ جس میں افترقات کا مطالعہ اور تجزیہ کیا جاتا ھے اور ساخت سے معنویت/ معنیات اخذ کی جاتی ھیں۔ جو اصل میں فکر کا طرز نظر اور رسائی ھوتی ھے۔ اس نظرئیے کو سب سے پہلے ارسطو نےچھیڑا ۔
ساختیاتی تنقیدی نظرئیے کے چار (4) مزاج ہیں۔
(1) تاریخی تنقید ( طربیہ، المیہ، موضوع کا خلاصہ)
(2) علامتی، نسلی تنقید (ادبی تشریات،ہیتی، اساطیری )
(3) اساطیری/ ارکی ٹائپ تنقید (طربیہ، المیہ، رومانی، طنز و مزاح)
(4) اصناف اور بلاغتی تنقید ( نثر، ڈرامہ،شاعری)
سوئس ماہر لسانیات فرینڈڈ ساسر (1857۔ 1913) جن کو جدید لسانیات کا بانی کہا جاتا ھے۔ انھوں نے لسانی تصورات کا خلاصہ و
خاکہ پپش کیا۔ ساختیاتی مباحث میں ساسر نے زبان کی ثقافتی مظہریت سے بحث کرتے ھوئے لسانی عناصر کی نشاندھی کی اور کہا کہ لسانی نظام میں معروضی حقائق شناخت نہیں کئے جاسکتے۔ ساختیاتی مطالعوں میں "ادب" کو دوسرے درجے کا نظام فکر تصور کیا گیا ھے۔ مارکسزم ،مظریات، فرائڈین ازم اور وجودیت کے خمیر سے ساختیات کا فکری اور مناجیاتی ڈھانچہ تشکیل پایا ھے۔ احمد سھیل نے اپنی کتاب میں ان مکاتیب فکر کو ساختیات کی مباحث میں شامل کیا ھے۔
"باختن دبستان، پراگ دبستان، جینوا دبستان، کوپن ہیگن دبستان،روسی ہیت پسندی، ییل کا دبستان، شکاگو دبستان، کیمرج دبستان، ماسکو ٹرٹو دبستان ۔"
(احمد سھیل، " ساختیات، تاریخ، نظریہ، تنقید" ۔ تخلیق کار پبلیشر، دہلی، 1999)
ساختیات کے نظریاتی، فکری ،لسانی، تنقیدی اور تحریکی کے حوالے سے ان موضوعات پر مباحث ایک عرصے سے جاری ھے۔
ایبانک تنقید،بالائی ساختیات، ردتشکیل، متنی تنقید، قاری اساس تنقید،ثانیثی تنقید، اقلیتی مخاطبہ، قبل متن نظریہ، آرکی ٹائپ تنقید،فیوجی ٹیو تنقید، تفھیمات، مارکسی ساختیاتی تنقید ، وطائفی تنقید،نئی ساختیات، مظریت، پس نو آبادیاتی تنقید،، لزبن اور گے تنقید،پس ردتشکیل، پس بالائی ساختیات، رد نوآبادیاتی تنقید، نیوکلیائی مخاطبہ، نو ساختیات، سیاقیت، بدیعیاتی تنقید، نشانیات، ٹروپ (ٹروپ لوجی)، زبانی شبیہ کاری، یک کلامیہ تنقید،، مخاطباتی تجزیات، نامیاتی تنقید، نظریہ قبولیت، متنی اور تحریری تنقید، تاریخ کار تنقید، عمل کلام کا نظریہ، کوئر نظریاتی تنقید اور رواجی تنقید وغیرہ۔۔۔۔۔۔
ساختیاتی نطرئیے کا دائرہ اب ساختیات ، پس ساختیات سے ھوتا ھوا۔۔۔"پس، پس ساختیات" ۔۔۔تک پہنچ گیا ھے۔

بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔ کومنٹس پڑھیں پرنٹ کریں

8 کومنٹس

Syed Fawad Bokhari

Shaharyar Qureshi

حمید نیازی

Shaharyar Qureshi

حمید نیازی

Shaharyar Qureshi

Syed Fawad Bokhari

Syed Fawad Bokhari


بحث میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔